سوال: کیا مردوں کو شریعت کی طرف سے درمیانی اور شہادت کی انگلی میں انگوٹھی پہننا منع ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ نبیﷺ نے مردوں کے لیے درمیانی انگلی اور شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ حدیث ِ نبویﷺ ہے:
﴿ يَا عَلِيٌّ , سَلِ اللَّهَ الْهُدَى , وَالسَّدَادَ , وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ الْخَاتَمَ فِي هَذِهِ، وَهَذِهِ، وَأَشَارَ يَعْنِي بِالسَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى﴾(سنن نسائی:5213)
یعنی: علی! اللہ سے ہدایت اور میانہ روی طلب کرو“، اور آپ نے مجھے روکا کہ انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف۔
لہذا اس حدیث کی روشنی میں مردوں کے لیے درمیانی انگلی اور شہادت والی انگلی میں انگوٹھی پہننا منع ہے، البتہ خواتین چونکہ بسا اوقات ایک سے زیادہ انگوٹھیاں پہنتی ہیں، لہذا ان کے لیے ہر انگلی میں انگوٹھی پہننے کی اجازت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی