بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
الکوحل ملے پرفیوم کا استعمال کرنا

الکوحل ملے پرفیوم کا استعمال کرنا

سوال: الکوحل ملے ہوئے  پرفیوم کے استعمال کا  کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ پرفیوم میں شامل کی گئی الکوحل  کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوں کہ شرعاً شراب کو پینا حرام قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ اس كا  نشہ آور  ہونا ہے، نا کہ شراب کا اپنی اصل میں ناپاک قرار دیا جانا اصل مقصد ہے، اور نہ ہی شراب کے اپنی اصل کے اعتبار  ناپاک ہے، کیونکہ شرعی اصول یہ ہے کہ:” النجاسة حكم شرعي يحتاج إلى دليل شرعي صريح ”  ۔یعنی: کسی بھی کو نجس قرار دینا  شرعی حکم ہے، جس کے  لیے واضح شرعی دلیل کی ضرورت ہے۔

اسی بنیاد پر شراب کی ذاتی نجاست پر واضح دلیل نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ شراب اپنی اصل میں پاک ہے، نیز اس پر قرآن و سنت سے کئی دلائل بھی دلالت کرتے ہیں ، جیسا کہ حدیث نبویﷺ کے الفاظ ہیں:

[ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ](صحیح بخاری:2464)

یعنی: (جب  شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری ) تو ﷺ نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا ( یہ سنتے ہی ) ابوطلحہ t نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دو۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہادی اور  شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔

اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ اگر شراب اپنی ذات کے اعتبار سے ناپاک ہوتی تو اس طرح مدینہ کی سڑکوں پر نہ بہائی جاتی، کیونکہ مسلمانوں کے راستے میں کسی نجس اور ناپاک چیز کو انڈیلنا جائز نہیں ہے۔ لہذا جب شراب پاک ہے تو اسی بنیاد پر اس سے بننے والے پرفیوم بھی پاک ہیں، اور ان کا ستعمال بھی جائز ہے۔ نیز الکوحل کے استعمال کا مقصد صرف خوشبو  کو کپڑوں تک پہنچانا ہوتا ہے، لہذا اس کے استعمال کے بعد یہ الکوحل کے ذرات ہوا میں بکھر جاتے ہیں اور کپڑوں پر صرف خوشبو کے ذرات  ہی باقی رہتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔