سوال: کیا گھر لینے کی نیت سے جو پیسے جمع کررہے ہیں ان پر بھی زکوٰۃ ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ جس بھی شخص کے مال نصاب کے برابر ہوجائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد کی زکوٰۃ لازم ہے۔ صورتِ مسؤلہ میں اگر کسی کے پاس 595 گرام چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ کرنسی موجود ہو تو وہ اس میں سے 2.5% رقم کو زکوٰۃ میں ادا کرے گا، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[ فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ, وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ](سنن ابی داؤد:1573)
یعنی: جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر پانچ درہم ( زکوٰۃ ) ہے ۔
لہذا جو رقم گھر لینے کی نیت سے جمع کی گئی ہے اور وہ نصاب کے برابر ہو، ساتھ ہی اس پر ایک سال گزر گیا ہو تو اس پر زکوٰۃ نکالی جائے گی
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی