سوال: ملازمین، گھر میں کام کرنے والے افراد، دھوبی مالی وغیرہ کو زکوٰۃ اور صدقہ دینا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ اگر گھر میں کام کرنے والے ایسے افراد مالی طور پر اپنی حاجات اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہوں تو ایسے افراد شرعا “مساکین”کے تحت شمار کیے جاتے ہیں، اور زکوٰۃ کے مصارف میں اللہ تعالیٰ نے ایک مصرف ان مساکین کو بھی قرار دیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾(سورۃ التوبہ:60)
یعنی: بے شک صدقات (زکوٰۃ) فقیروں کے لئے اور مسکینوں کے لئے اور انہیں اکٹھا کرنے والوں کے لئے اور ان (کفار و نومسلم) کے لئے ہیں جن کا دل جیتنا مقصود ہو، اور غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرانے کے لئے اور قرضداروں کا قرض چکانے کے لئے ہے، اور اللہ کی راہ (جہاد و دعوت دین) میں خرچ کرنے کے لئے اور مسافر کے لئے ہیں، یہ حکم اللہ کی جانب سے ہے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑی حکمتوں والا ہے۔
لہٰذا ایسے افراد کو زکوٰۃ اور صدقات دیے جا سکتے ہیں، البتہ اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ ان کے ساتھ تعاون کرنے کے بعد ان سے کسی قسم کے احسان، خصوصی حسنِ سلوک، یا بلا معاوضہ کسی خدمت کی توقع نہ رکھی جائے؛ کیونکہ زکوٰۃ و صدقات محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دیے جاتے ہیں، لہٰذا ان کے بدلے میں کسی دنیوی فائدے کا حصول درست نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی