سوال: روزے کی حالت میں انہیلر کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ انہیلر کی دو اقسام ہوتی ہیں:
۱۔وہ انہیلر جن میں صرف آکسیجن استعمال کی جاتی ہے کسی قسم کی کوئی دوائی شامل نہیں ہوتی۔
۲۔ وہ انہیلر جن میں دوائی بھی شامل کی جاتی ہے، اور ان کے استعمال کی صورت میں دوا حلق کے اندر بھی جاتی ہے۔
پہلی صورت کے انہیلر استعمال کیے جاسکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہ صرف آکسیجن پر مشتمل ہوتے ہیں ، کوئی دوائی ان میں شامل نہیں ہوتی کہ وہ حلق تک پہنچے۔
البتہ دوسری صورت پر مشتمل انہیلر کا استعمال روزے دار کے لیے درست نہیں ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے دوا حلق تک پہنچتی ہے جو کہ روزہ ٹوٹنے کا سبب ہے۔ اگر کسی کا مرض شدید ہو اور انہیلر کے استعمال کے بغیر چارہ نہ ہو تو کوشش کی جائے کہ سحری اور افطاری میں اس کو استعمال کیا جائے، اگردن میں بھی دورانِ روزہ اس کی ضرورت محسوس ہو تو ایسی صورت میں ایسے شخص پر روزہ رکھنے میں رخصت شریعت کی طرف سے دی گئی ہے،ایسا شخص سال کے دیگر دنوں میں طبیعت بہتر ہونے کی صورت میں رمضان کے روزوں کی قضا دے گا، اور اگر مرض شدید ہو اور قضا دینا ممکن نہ تو روزے کا فدیہ دیا جائے گا ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ، وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ](سورۃ البقرۃ:184)
یعنی: تم میں سے جو بیمار ہو، یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں(روزے کی قضا نہ دے سکتے ہوں) ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔
خلاصہ کلام: پہلی صورت میں انہیلر کا استعمال روزے دار کے لیے جائز ہے، البتہ دوسری صورت میں دوا حلق میں پہنچنے کی وجہ سے اس کا استعمال درست نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی