بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
کیا اچھی چیزیں استعمال کرنا اسراف میں شامل ہے؟

کیا اچھی چیزیں استعمال کرنا اسراف میں شامل ہے؟

سوال:  سادگی اور اسراف میں کیا فرق ہے؟ اگر ضرورت پوری ہورہی ہو لیکن انسان کا دل اچھی چیز استعمال کرنے کو چاہے تو کیا یہ بھی اسراف ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے انسان کو پاکیزہ اور اچھی چیزیں استعمال کرنے سے منع نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾(سورۃ الأعراف: 32)

ترجمہ: کہہ دیجیے! اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے؟

البتہ شریعت نے اسراف سے منع فرمایا ہے۔ اسراف کا معنی ہے:”حد سے تجاوز کرنا”۔اور یہ حد ہر شخص کے حالات، آمدنی اور استطاعت کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی حیثیت اور آمدنی کے مطابق اچھی چیز استعمال کرتا ہے، اور اس میں تکبر، نمود و نمائش، فضول خرچی یا قرض میں ڈوبنا شامل نہیں، تو یہ اسراف نہیں ہے۔ مثلاً ایک مالدار شخص اچھا گھر، اچھی گاڑی یا بہتر لباس استعمال کرے تو یہ اس کی وسعت کے مطابق جائز ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص محض لوگوں کی دیکھا دیکھی اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرے، قرض لے کر فضول تعیش اختیار کرے، یا نمود و فخر مقصود ہو، تو یہ اسراف اور ناپسندیدہ عمل ہوگا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔