بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
نائٹ شفٹ کی وجہ سے نماز قضاء ہونا

نائٹ شفٹ کی وجہ سے نماز قضاء ہونا

سوال:نائٹ شفٹ کی وجہ سے دن کی نمازیں قضا ہوجاتی ہیں، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

واضح رہے کہ نماز اسلام کے عظیم ترین فرائض میں سے ہے، بلکہ قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کے بارے میں سوال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾(النساء: 103)

ترجمہ: نماز قائم کرو، بے شک نماز مؤمنوں پر مقررہ وقتوں میں فرض کی گئی ہے۔

نیز  نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ ﴾( سنن ابن ماجہ: 1426)

یعنی: قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔

لہٰذا محض نائٹ شفٹ یا ملازمت نماز چھوڑنے کا عذر نہیں بن سکتی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیند، ڈیوٹی اور معمولات کو اس طرح ترتیب دے کہ نماز وقت پر ادا ہوسکے۔ الارم لگانا، کسی کو جگانے کا کہنا، وقفہ لینا، یا مختصر آرام کرنا، یہ سب اسباب اختیار کرنا ضروری ہیں۔

البتہ اگر کبھی پوری کوشش اور اسباب اختیار کرنے کے باوجود نیند غالب آجائے اور نماز قضا ہوجائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا۔ لیکن اگر یہ روز کا معمول بن جائے اور مسلسل نمازیں قضا ہوتی رہیں تو یہ سخت غفلت اور کوتاہی ہے، جس پر آدمی مؤاخذے کا مستحق ہوگا۔

ایسی صورت میں اگر کوئی کام واقعی انسان کو نماز سے محروم کر رہا ہو اور اصلاح کی کوئی صورت نہ بن رہی ہو، تو ایسے کام کو چھوڑ دینا بہتر بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے، کیونکہ رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا﴾(الطلاق: 4)

ترجمہ: جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا فرما دے گا۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔