بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
جانور کی کھال یا گوشت قصائی کو دینا

جانور کی کھال یا گوشت قصائی کو دینا

سوال:  قربانی کی کھال یا گوشت میں سے کوئی چیز قصاب کو دینا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

واضح رہے کہ نبیﷺ نے قربانی کے  جانور کے گوشت میں سے یا اس کی کھال میں  سے قصاب کو  بطور اجرت کچھ بھی دینا ممنوع ہے، کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے وہ فرماتے ہیں:

﴿ أَمَرَنِي النَّبِيُّﷺ أَنْ أَقُومَ عَلَى الْبُدْنِ وَلَا أُعْطِيَ عَلَيْهَا شَيْئًا فِي جِزَارَتِهَا﴾(صحیح بخاری:1716)

یعنی: مجھے نبی کریمﷺنے حکم دیا تھا کہ میں قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کروں اور ان میں سے کوئی چیز قصائی کی مزدوری میں نہ دوں۔

لہذا پہلے سے طے شدہ معاہدے کی بنیاد پر قصائی کو کھال یا گوشت کا کچھ حصہ(سری پائے ) دینا درست نہیں ہے، البتہ بغیر قصائی کے مطالبے کے اگر قربانی کرنے والا خود اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو وہ بھی  اجرت کی نیت سے نہ دے گا، بلکہ ہدیتاً اگر دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔