بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
جانور کے بھاگنے کی صورت میں اس کو گولی مارنا

جانور کے بھاگنے کی صورت میں اس کو گولی مارنا

سوال:  قربانی کا جانور اگر بھاگے تو اس کو گولی مارنا کیسا ہے اور اگر وہ مر جائے تو کیا وہ ذبح کہلائے گا؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

اصل حکم یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو قابو کرکے باقاعدہ شرعی طریقے سے چھری کے ذریعے ذبح کیا جائے، کیونکہ یہی سنت اور معمول کا طریقہ ہے۔ البتہ اگر جانور بالکل بے قابو ہوجائے، بھاگ نکلے اور اس کو عام طریقے سے ذبح کرنا ممکن نہ رہے، تو ایسی صورت میں اس کو گولی یا کسی نوکیلی چیز سے مار کر روکنا جائز ہے، بشرطیکہ اس سے خون بہہ جائے اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے،چونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

﴿مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ﴾(صحیح بخاری: 5543)

یعنی: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھاؤ۔

اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک واقعہ میں ہے کہ ایک اونٹ بھاگ گیا اور لوگوں کے پاس اسے پکڑنے کے لیے گھوڑے نہیں تھے، تو ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا﴾(صحیح بخاری: 5543)

یعنی: یہ جانور بھی جنگلی جانوروں کی طرح کبھی بے قابو ہوجاتے ہیں، لہٰذا جب ان میں سے کوئی تم پر غالب آجائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔

لہٰذا اگر بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائی جائے اور جانور زخمی ہوکر خون نکلنے کی وجہ سے مر جائے تو وہ شرعاً حلال ہوگا اور اس کا کھانا جائز ہے،البتہ افضل اور احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اگر ممکن ہو تو گولی مار کر صرف اسے قابو کیا جائے، پھر زندہ حالت میں اس پر چھری پھیر کر باقاعدہ ذبح کرلیا جائے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔