سوال: کیا قربانی کا جانور خاتون خود ذبح کرسکتی ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت کم از کم تکلیف ہو اور اس کو قربان کرتے وقت احسان کا معاملہ کیا جائے، چنانچہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ﴾(صحیح مسلم:1955)
یعنی: جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تم میں سے ایک شخص (جو ذبح کرنا چاہتا ہے) وہ اپنی (چھری کی) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے۔
لہذا اگر ایک خاتون جانور کو ذبح کرنا جانتی ہوں اور ذبح کرنے کا سلیقہ رکھتی ہوں تو وہ جانور ذبح کرسکتی ہیں، چنانچہ روایت کے الفاظ ہیں:
﴿ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: «كُلُوهَا»﴾(صحیح بخاری:5505)
یعنی: کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی ۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کردیا پھر نبی کریم ﷺسے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اسے کھاؤ ۔
اسی بنیاد پر اگر خاتون قربانی کا جانور ذبح کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی