بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
قربانی کے جانور میں عقیقہ ملانا

قربانی کے جانور میں عقیقہ ملانا

سوال:  کیاقربانی کے جانور میں عقیقہ ملانا جائز ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ قربانی اور عقیقہ دونوں علیحدہ عبادات  ہیں،اور مختلف لحاظ سے چند ایک چیزیں مختلف ہیں:

  1. قربانی میں مرد و عورت کا کوئی فرق نہیں ہے، جبکہ عقیقہ میں لڑکے کے لیے دو بکرے اور لڑکی کے لیے ایک بکرا شریعت کی طرف سے مقرر ہے، جیساکہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ فِي الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَفِي الْجَارِيَةِ شَاةٌ ﴾(سنن نسائی:4220)

یعنی: لڑکے کی طرف سے دوکامل بکرے ذبح کیے جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک۔

  1. قربانی کا وقت ذوالحجہ کے چار دنوں میں ہے، جبکہ عقیقہ انسان کی پیدائش کے ساتھ خاص ہے۔
  2. قربانی کے جانور کے لیے شریعت نے شرائط رکھی ہیں، وہ شرائط عقیقہ کے جانور کے لیے نہیں ہیں۔

نیز شریعت نے  عقیقہ کے موقع پر ایک مستقل جان کا تقاضہ کیا ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿مَعَ الغُلاَمِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى﴾(سنن ابی داؤد:2839)

یعنی: پیدا ہونے والےکے لیے عقیقہ لازمی ہے ، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس کی میل کچیل دور کرو ۔

مزید یہ کہ شرعاً ایسی کوئی بھی نص ثابت نہیں ہے جس میں عقیقہ کو قربانی کے جانور میں شامل کیے جانے کا جواز موجود  ہو، لہذا اس کام سے بچنا چاہیے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔