بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ کا حکم

استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ کا حکم

سوال: کیا استعمال   کے زیورات پر زکوٰۃ ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ اصولی طور پر وہ اشیاء جو ذاتی استعمال کے لیے ہوں (جنہیں فقہی اصطلاح میں اموالِ قنیہ کہا جاتا ہے) ان پر زکوٰۃ نہیں ہوتی، جیسے رہائشی مکان، استعمال کی گاڑی وغیرہ۔البتہ سونا اور چاندی اس اصول سے مستثنیٰ ہیں، لہٰذا اگر زیورات سونے یا چاندی کے ہوں اور وہ نصاب (تقریباً 85 گرام سونا یا 595 گرام چاندی) کو پہنچ جائیں، اور ان پر سال (حولانِ حول) بھی گزر جائے، تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی، خواہ وہ استعمال ہی میں کیوں نہ ہوں۔

اس کی دلیل حدیث نبویﷺ ہے:

﴿ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِﷺ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهَا أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا قَالَتْ لَا قَالَ أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ قَالَ فَخَلَعَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّﷺوَقَالَتْ هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ﴾(سنن ابی داود:1563)

یعنی:  ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں ۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے ۔ آپ ﷺ نے اس خاتون سے پوچھا ” کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو ؟ “ اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ “ چنانچہ اس عورت نے ان کو اتارا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈال دیا اور کہنے لگی ، یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں ۔

اسی نوع کی دیگر احادیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سونے چاندی کے زیورات، اگر نصاب کو پہنچ جائیں، تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے، نصاب تک پہنچنے کی قید اس وجہ سے  ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

﴿ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴾(سورۃ المعارج:24)

یعنی: اور جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے۔
اس آیت کا  ایک مفہوم یہ ہے کہ لوگوں  کے  اموال میں معلوم مقدار میں حق ہے، یعنی وہ مقدار    شرعی دلائل میں موجود ہے، لہذا عمومی طور پر جو   سونے/چاندی پر جس مقدار  میں زکوٰۃ واجب ہے، اسی مقدار میں  ان کے زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔

خلاصہ کلام:استعمالی اشیاء پر زکوٰۃ نہیں، مگر سونا اور چاندی اس سے مستثنیٰ ہیں، لہٰذا استعمال کے زیورات بھی اگر نصاب کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ دینا لازم ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔