بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
گرافک ڈیزائنگ میں جاندار کی تصویر بنانا

گرافک ڈیزائنگ میں جاندار کی تصویر بنانا

سوال:گرافک ڈیزائنگ میں مارکیٹنگ کے لیے جاندار کی تصویر بنانے کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں ذی روح (جاندار) کی تصویر سازی کے بارے میں سخت وعید آئی ہے، اس لیے اصل حکم احتیاط اور اجتناب کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تصویریں بنانے والوں کے بارے میں فرمایا:

﴿ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ القِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ ﴾(صحیح بخاری:5950)

یعنی: اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔

اس حدیث  سے معلوم ہوتا ہے کہ جاندار کی تصویر بنانا سخت گناہ ہے،لہٰذا گرافک ڈیزائنگ میں بھی اگر مکمل جاندار (انسان یا حیوان) کی تصویر بنائی جائے، تو یہ کام حرام ہے ۔ البتہ جہاں تک  ڈجیٹل تصویر کا معاملہ ہے  تو اس سلسلے میں اہلِ علم کے ہاں  شدید اختلاف ہے، لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے اجتناب  کیا جائے، خصوصاً جب وہ بلا ضرورت ہو اور محض تشہیر و آرائش کے لیے ہو۔

البتہ غیر جاندار اشیاء (جیسے: مناظر، اشیاء، ڈیزائن، خطاطی وغیرہ) کی ڈیزائننگ میں کوئی حرج نہیں۔ نیز بعض اہلِ علم نے ضرورت یا شدید حاجت کی صورت میں کچھ گنجائش کی بات کی ہے، لیکن اصل اور زیادہ محتاط قول یہی ہے کہ جاندار کی تصاویر سے پرہیز کیا جائے۔

خلاصہ:مارکیٹنگ کے لیے جاندار کی تصاویر بنانا شرعاً محلِ اشکال اور ممنوع ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کیا جائے، جبکہ غیر جاندار کی تصاویر پر مشتمل ڈیزائننگ جائز ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔