بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
خواتین کا بیوٹی پارلر کھولنا

خواتین کا بیوٹی پارلر کھولنا

سوال:بیوٹی پارلر کا کام کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

بیوٹی پارلر میں  کام کرنے کےجائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ اس بنیاد پر منحصر ہے کہ اس میں کام کیا  ہورہا ہے؟ اگر  کوئی حرام کام نہیں ہورہا  تو ایسی صورت میں ایسا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ مستحسن عمل ہے، کیونکہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

[مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ](بخاری:2072)

یعنی: کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔

البتہ اگر کوئی ایسا کام ہوتا ہو، یا بیوٹی  پارلر کا ماحول ایسا ہو ، جو شرعاً ناجائز ہے تو  ایسا کام کرنا درست نہیں ہے، مثلاً: بیوٹی پارلر کا ماحول اختلاط پر مشتمل ہو، یا پھر اس میں بھنویں بنائی جاتی ہوں ،یا کوئی اور غیر شرعی کام کیا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں بیوٹی پارلر  کا کام کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اختلاط کے بارے میں نبیﷺ کا ارشاد ہے:

[إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ]

یعنی: عورتوں میں جانے سے بچے رہو۔(صحیح بخاری:5232)

نیز   بھونیں بنوانے کے تعلق سے حدیثِ نبویﷺ کا فرمان   ہے:

[ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ]

یعنی:رسول اللہﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود پر گواہ بننے والے، اس کی کتابت کرنے والے، رنگ بھرنے والی، بھروانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔(سنن نسائی:5108)

خلاصہ کلام: اگر بیوٹی پارلر میں جائز کام ہوتے ہوں  تو یہ کام جائز ہے بصورتِ دیگر یہ  کام ناجائز ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔