بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
بچوں کا مسجد میں صف کے درمیان کھڑا ہونا

بچوں کا مسجد میں صف کے درمیان کھڑا ہونا

سوال : دورانِ نماز صف میں چھوٹے بچوں کا کھڑا ہونا کیسا ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب بشرط صحۃ السؤال

واضح رہے کہ جماعت میں امام کے قریب ایسے افراد کا کھڑا ہونا بہتر ہے جو سمجھ دار اور اہلِ علم ہوں، جیسا کہ نبیﷺ  کا فرمان ہے:

﴿ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَ ﴾(صحیح  ترمذی:228)

یعنی:تم میں سے جوصاحب فہم وذکااور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہئے۔
اس کی وجہ یہ ہے تاکہ بوقتِ ضرورت امام کو لقمہ دے سکیں یا اس کی جگہ امامت سنبھال سکیں۔البتہ اس  جگہ کے بعد کی صفوں میں اگر کوئی سمجھ دار بچہ ہو، جو نماز کے آداب کا خیال رکھتا ہو، کھیل کود اور شرارت سے بچتا ہو، تو اس کا صف میں کھڑا ہونا جائز ہے، اور اس سے صف میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔

خصوصاً اگر بچہ پہلے آکر صف میں کھڑا ہو گیا ہو تو اسے وہاں سے ہٹانا درست نہیں، کیونکہ اس میں اس کی حق تلفی اور دل آزاری ہے، جبکہ شریعت میں دل آزاری سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔

خلاصہ:سمجھ دار اور باادب بچے صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ امام کے قریب اہلِ فہم افراد کا ہونا اولیٰ ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔