سوال: طلاقِ رجعی کی صورت میں رجوع کیسے کیا جائے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ طلاقِ رجعی وہ طلاق ہے جو ایک یا دو مرتبہ دی جائے، اس صورت میں شوہر کو عدت کے اندر بغیر دوبارہ نکاح کے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے،جیسا کہ ارشاد، باری تعالیٰ ہے:
﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾(سورۃ البقرۃ:228)
یعنی:ان کے خاوند اس مدت میں انھیں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔
اگرمطلقہ حاملہ ہو تو ان کی عدت وضعِ حمل (بچے کی پیدائش) تک ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
[وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ] (سورۃ الطلاق:04)
یعنی:حاملہ عورتوں کی عدت وضع(اسقاط) حمل ہے۔
اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ]یعنی: تین حیض ہے۔ (سورۃ البقرہ :۲۲۸)
رجوع کی دو صورتیں ہیں:قولی رجوع: شوہر زبان سے کہہ دے کہ: “میں نے رجوع کر لیا”، یا “میں نے تمہیں واپس لے لیا”، یا اس جیسے الفاظ جن سے زوجیت کی بحالی ظاہر ہو۔ یا پھر فعلی رجوع: شوہر بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کر لے، تو اس سے بھی رجوع ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ رجوع پر گواہ بنانا بہتر اور مستحب ہے، تاکہ بعد میں کوئی نزاع پیدا نہ ہو، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ ﴾(سورۃ الطلاق:02)
یعنی: آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ بنالو۔
خلاصہ:طلاقِ رجعی میں عدت کے دوران قول یا فعل کے ذریعے رجوع کیا جا سکتا ہے، نیزگواہ بنانا بہتر ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔