بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا

مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا

سوال :مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی باتیں کرنا کیسا ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب بشرط صحۃ السؤال

واضح رہے کہ مسجد ایک مقدس مقام اور اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، جو عبادت، ذکر و تلاوت اور دینی امور کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا اس کے آداب کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾(سورۃ الجن:18)

یعنی: اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔

لہٰذا مسجد میں اصل مقصود عبادت ہے، البتہ بقدرِ ضرورت مباح دنیاوی گفتگو کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی لغو، شور یا بے ادبی نہ ہو،البتہ مسجد میں شور شرابہ کرنا، آوازیں بلند کرنا، لڑائی جھگڑا کرنا، یا باقاعدہ غیر دینی محفلیں سجانا ناجائز اور ممنوع ہے۔ نبی کریم ﷺ  نے ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی گمشدہ چیز کا مسجد  میں اعلان کرے اس کے لیے فرمایا:

﴿ لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ, فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا ﴾(سنن ابو داؤد:473)

یعنی: اللہ کرے تجھے یہ نہ ملے ۔ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں ۔

اسی طرح ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے  دو لڑکوں کو مسجد نبوی ﷺ میں  تیز آواز سے باتیں کرتے سنا تو فرمایا: اگر تم مدینہ کے ہوتے تو میں تمہیں سزا دئیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز اونچی کرتے ہو؟(صحیح بخاری:470)

خلاصہ:مسجد میں ضرورت کے تحت ہلکی دنیاوی بات کی گنجائش ہے، لیکن شور، لغویات اور غیر دینی محفلیں منع ہیں، کیونکہ مسجد کا اصل مقصد عبادت ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔