سوال : کیا دو بیویوں کے درمیان تحائف وغیرہ میں بھی برابری ضروری ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب بشرط صحۃ السؤال
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیگمات ہوں تو اس پر لازم ہے کہ ضروری اخراجات میں عدل قائم رکھے، یعنی ہر بیوی کو اس کی حاجت اور ضرورت کے مطابق خرچ فراہم کرے۔ البتہ اضافی اور غیر ضروری اخراجات میں کامل برابری اور مساوات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً﴾(سورۃ النساء:03)
یعنی:عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں، دو، دو، تین، تین، چار، چار تک نکاح کرلو،لیکن اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔
مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ﴾(سورۃ النساء:129)
یعنی: اگر تم اپنی بیویوں کے درمیان کماحقہ عدل کرنا چاہو بھی تو ایسا ہرگز نہ کرسکو گے لہٰذا یوں نہ کرنا کہ ایک بیوی کی طرف تو پوری طرح مائل ہوجاؤ۔
نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا, جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ﴾(سنن ابی داؤد:2133)
یعنی:جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور پھر وہ کسی ایک کی طرف مائل ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اس کیفیت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا ۔
ان تمام دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ دو بیویوں کے درمیان تحائف، نان و نفقہ، رہائش اور رات گزارنے (شب باشی) میں برابری اور عدل و انصاف کرنا شوہر پر واجب ہے۔ اگر ایک بیوی کو کوئی تحفہ یا زیور دیا جائے تو دوسری بیوی کو بھی اسی معیار یا قیمت کا تحفہ دینا ضروری ہے تاکہ ناانصافی اور حسد کا پہلو نہ نکلے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی