بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
اسکول کا ایگزیمینیشن فیس لینا

اسکول کا ایگزیمینیشن فیس لینا

سوال : اسکول والوں کا الگ سے ایگزیمینیشن فیس لینے کا حکم؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب بشرط صحۃ السؤال

واضح رہے کہ اصل اصول یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کا مال بغیر اس کی رضامندی کے لینا جائز نہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

﴿ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ﴾(صفة الصلاة النبيﷺ:27)

یعنی:کسی مسلمان کے لیے کسی مسلمان کا مال اس کی بغیر اجازت  کے جائز نہیں ہے۔

لہٰذا اسکول اگر امتحانات کے انعقاد کے لیے واقعی اضافی اخراجات برداشت کر رہا ہو، جیسے: پرچہ سازی، نگرانی (invigilation)، کاپیوں کی جانچ، یا دیگر انتظامی امور، تو ان حقیقی اخراجات کے بقدر الگ سے فیس لینا جائز ہے۔

البتہ اگر بغیر کسی معقول وجہ کے محض زائد رقم وصول کی جائے، یا اصل اخراجات سے زیادہ فیس لی جائے، تو یہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ اس میں بلاوجہ لوگوں کا مال لینا شامل ہے۔

خلاصہ:امتحانی اخراجات کے مطابق معقول فیس لینا جائز ہے، لیکن بلاوجہ یا زائد فیس لینا ناجائز ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔