سوال : کیا منگنی کے موقعے پر منگیتر لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا سکتے ہیں؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب بشرط صحۃ السؤال
منگنی کے موقعے پر خاص انگوٹھی پہننے کا رواج خالصتاً نصاریٰ کا طور طریقہ ہے، اور انکے رسم و رواج کا حصہ ہے۔ اور وہ یہ عمل دین سمجھ کر کرتے ہیں اور (نعوذ باللہ) یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ انگوٹھی اس رشتے کی بقاء کا سبب ہے، اس وجہ سے اس موقعے پر انگوٹھی پہننا حرام ہے کیونکہ یہ عمل شرک اصغر ہے، کیونکہ کسی ایسے عمل کو کسی چیز کا سبب بنانا اور اس کے سبب ہونے کا اعتقاد رکھنا ، جسکو شریعت نے سبب نہیں بنایا، شرک اصغر ہے۔
لیکن اگر کوئی انسان اس عقیدے کو اپنائے بغیر یہ عمل کرے تب بھی یہ عمل حرام ہے، کیونکہ اس میں غیر مسلمانوں کی مشابہت ہے، اور مسلمانوں کو غیر مسلم/کفار کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے، بلکہ انکے ساتھ مشابہت کو قیامت کی نشانی قرار دیا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا:
(مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ)سنن ابی داؤد: 4031
یعنی: جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا)
نیز فرمایا:
(لتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ)صحیح البخاری: 7320
یعنی: تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہود ونصاریٰ مراد ہیں َ؟ فرمایا پھر اور کون۔)
چہ جائیکہ منگیتر لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائیں، حالانکہ یہ عمل مزید خطرناک ہے، کیونکہ یہ دونوں منگیتر جب تک نکاح کا عقد نہ ہوجائے،نامحرم ہی رہیں گے، اس لیے انکا آپس میں ساتھ بیٹھنا، ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانے کے لیے چھونا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اور اس پر شریعت کے بہت سارے دلائل وارد ہوئے ہیں،ہم ایک دلیل پر اکتفا کرتے ہیں:
نبیﷺ کا فرمان:
لأن يُطعنَ في رأسِ أحدِكم بمخيطٍ من حديدٍ خيرٌ له من أن يمسَّ امرأةً لا تحلُّ له (السلسلۃ الصحیحۃ: 226)
یعنی:كسی آدمی كے سر میں لوہے كی كیل ٹھونك دی جائے یہ اس كے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ وہ ایسی عورت كو چھوئے جو اس كے لئے حلال نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی