بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
رضاعت میں شک کی صورت

رضاعت میں شک کی صورت

سوال:  اگر دودھ پیتے بچے کو کوئی خاتون سنبھالتی ہوں اور اس کی رضاعت میں شک ہوجائے تو ایسی صورت میں کیا مشکوک رشتے سے نکاح کیا جاسکتا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ رضاعت کے مسئلے میں جتنے بھی شرعی نصوص مروی ہیں، ان کی روشنی میں حکم احوط یہ ہے کہ اگر بچہ مدت رضاعت (دو سال) کے اندر کسی خاتون کا  پانچ مرتبہ دودھ پی لے تو اس سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے:

﴿ كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ ﴾(صحیح مسلم: 3597)

یعنی: قرآن میں نازل ہوا کہ دس بار دودھ پلانا حرمت کا سبب بناتا ہے، پھر اسے پانچ چسکیوں کی تعداد پر نسخ کیا گیا۔
نیز رضاعت سے جو رشتے قائم ہوتے ہیں، وہ نسب سے قائم ہونے والے رشتوں کے حکم کے مطابق حرام ہوتے ہیں،جیسا  کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ﴾(صحیح بخاری:2645)

یعنی: جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں، وہی دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہوں گے۔
اگر کسی بچے کے متعلق شک ہو کہ اس نے کسی خاتون کی رضاعت کی ہے تو ایسی صورت میں  یہاں معاملہ حلال و حرام کے لحاظ سے مشتبہ  ہوجاتا ہے، لہذا حرام کے پہلو کو غالب رکھا جائے گا، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

﴿الحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ﴾(صحیح بخاری:52)

یعنی: حلال واضح  ہے اور حرام بھی واضح  ہے اور ان دونوں کے درمیان بعض چیزیں  مشتبہ ہیں جن کو بہت لوگ نہیں جانتے ( کہ حلال ہیں یا حرام ) پھر جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بھی بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا۔

لہذا ایسی صورت میں اگر رضاعت میں یا کسی رشتے کے رضاعی تعلق ہونے میں شک ہوجائے تو ایسی صورت میں احتیاط کا پہلو  یہی ہے کہ  مشکوک رشتے سے نکاح نہ کیا جائے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔