بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
غیر مسلم کو صدقہ یا زکوٰۃ سے رقم دینا

غیر مسلم کو صدقہ یا زکوٰۃ سے رقم دینا

سوال: غیر مسلم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال

         غیر مسلم کو صدقہ دینے کا حکم اس کی نوعیت اور صدقہ کی قسم کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے اس میں تفصیل ضروری ہے۔

اگر غیر مسلم معاند اور اسلام دشمن نہ ہو، یعنی وہ نہ مسلمانوں سے دینی بنیاد پر لڑتا ہوتو ایسے غیر مسلم کے ساتھ احسان اور بھلائی کرنا شرعاً جائز ہے، اور اگر وہ مستحق ہو تو اسے نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ﴾(سورۃ الممتحنہ:08)

یعنی:اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نے نہ تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے غیر مسلم کے ساتھ حسنِ سلوک اور احسان جائز ہے، اور نفلی صدقہ اسی احسان کی ایک صورت ہے۔

جہاں تک زکوٰۃ کا تعلق ہے تو اس کے مصارف شریعت میں متعین ہیں،جیسا کہ اشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ … ﴾(سورۃ التوبہ: 60)

یعنی:زکوٰۃ تو صرف فقراء، مساکین، اس پر کام کرنے والوں، اور جن کے دل جوڑے جانے مقصود ہوں، کے لیے ہے…۔

اس آیت کی روشنی میں  غیر مسلم فقراء اور مساکین کے مصرف میں شامل نہیں ہوتے، اس لیے عام حالات میں انہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں،البتہ غیر مسلم کو زکوٰۃ صرف ایک صورت میں دی جا سکتی ہے، اور وہ ہے مُؤَلَّفَۃُ القلوب کے تحت، یعنی اس کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا مقصود ہو، یااس کے دل کو اسلام کی طرف مائل کرنا اور نرم کرنا مقصود ہو۔ لیکن  اس صورت میں بھی اصل مقصد محض مالی مدد نہیں، بلکہ دین کی دعوت اور تبلیغ ہونا چاہیے، یعنی دنیا دے کر دل جوڑا جائے تاکہ وہ حق کو سمجھ سکے۔

خلاصہ کلام:غیر مسلم اگر معاند نہ ہو تو اسے نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہے،البتہ زکوٰۃ کے مصارف محدود ہیں، اس لیے غیر مسلم کو عام طور پر زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی،غیر مسلم کو زکوٰۃ صرف مؤلفۃ القلوب کے تحت دی جا سکتی ہے، اور وہ بھی دعوتِ دین کے مقصد کے ساتھ۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔