سوال: اِہداءُ الثواب (ایصالِ ثواب) کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال
اِہداءُ الثواب دراصل ایصالِ ثواب ہی کا مسئلہ ہے، یعنی کسی زندہ شخص کا اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی میت (یا کسی اور) کو پہنچانا۔ اس مسئلے میں عبادات کی نوعیت کے اعتبار سے شرعی حکم مختلف ہوتا ہے۔
شریعتِ مطہرہ میں بدنی عبادات (جیسے نماز) اور قولی عبادات (جیسے ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن) کا ثواب کسی دوسرے کو منتقل کرنا نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں، نہ ہی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا کوئی صحیح ثبوت ملتا ہے۔ اسی بنا پر اہلِ علم نے واضح کیا ہے کہ ان عبادات کا ثواب کسی میت کو پہنچانا شرعاً مشروع نہیں،اس طرح کے اعمال کو دین کا حصہ بنانا بدعت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ شریعت میں اس کی اصل موجود نہیں،نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
﴿ مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ﴾(صحیح بخاری)
یعنی:جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، تو وہ مردود ہے۔
البتہ بدنی عبادات میں سے شریعت نے ایک استثنائی صورت بیان فرمائی ہے، اور وہ حج اور عمرہ ہے، جو کسی کی طرف سے (نیابتاً) ادا کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے:
﴿ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ قَالَ مَنْ شُبْرُمَةُ قَالَ أَخٌ لِي أَوْ قَرِيبٌ لِي قَالَ حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ قَالَ لَا قَالَ حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ﴾(سنن ابی داؤد:1811)
یعنی: نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ کہہ رہا تھا «لبيك عن شبرمة » ” میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں ۔ “ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ” شبرمہ کون ہے ؟ “ اس نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا قریبی ہے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے ؟ “ اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ( پہلے ) اپنی طرف سے حج کرو ، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔
لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ بدنی عبادات (نماز وغیرہ) کا ثواب کسی اور کو پہنچانا ثابت نہیں،قولی عبادات (ذکر، تلاوتِ قرآن) کا ثواب بھی منتقل کرنا ثابت نہیں،ان امور کو بطورِ دین رائج کرنا بدعت ہے،بدنی عبادات میں صرف حج و عمرہ نیابتاً ادا کیے جا سکتے ہیں، جو مستثنیٰ ہیں۔
البتہ مالی عبادات کا معاملہ اس سے مختلف ہے، کسی کی طرف مالی صدقہ کیا جاسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے:
﴿ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ﴾(صحیح بخاری:1388)
یعنی: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کردوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں ملے گا۔
خلاصہ کلام: بدنی اور قولی عبادات میں ایصال ثواب کرنا شریعت سے ثابت نہیں ہے،البتہ صرف حج و عمرہ کرنے کی گنجاش ہے۔ نیز مالی صدقہ میت کی طرف سے کیا جاسکتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی