بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
اے آئی سے چہرہ کے علاوہ اعضاء کی تصویر بنوانا

اے آئی سے چہرہ کے علاوہ اعضاء کی تصویر بنوانا

سوال:  اے آئی (AI) کے ذریعے چہرے کے علاوہ اعضاء مثلاً ہاتھ یا پاؤں وغیرہ جنریٹ کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

          اے آئی کے ذریعے تصاویر یا اشکال بنانا دراصل تصویر سازی کی جدید صورت ہے، اور اس کا شرعی حکم تصویر کے مفہوم اور اس کی نوعیت کے اعتبار سے طے کیا جاتا ہے۔اگر کسی  مخلوق کی تصویر  مکمل جنریٹ کروائی جائے تو یہ حرام ہے، کیونکہ یہ تصویر بنانے کے مترادف ہے، اس پر شدید عذاب کی وعید ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ ﴾(صحیح بخاری:5950)

یعنی: لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں۔

شرعاً تصویر (تصویرِ ذی روح) کی حرمت کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ تصویر کامل صورت پر مشتمل ہو، جس میں خاص طور پر چہرہ موجود ہو، کیونکہ چہرہ ہی اصل پہچان اور روحانی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جیسا  کہ کا ارشاد ہے:

﴿ إِذَا قُطِعَ الرَّأْسُ فَلَا صُورَةَ ﴾(صحیح الجامع:3864)

یعنی:جب سر کاٹ دیا جائے تو پھر (وہ) تصویر نہیں رہتی۔

لہذا  اگر کسی جاندار کی تصویر چہرے کے بغیر ہو، یا صرف کسی عضو (جیسے ہاتھ، پاؤں وغیرہ) کی تصویر ہو، تو وہ تصویرِ کامل کے حکم میں داخل نہیں ہوتی، اس لیے وہ شرعاً جائز ہے۔

لہٰذااگر اے آئی کے ذریعے کسی مخلوق کا چہرہ شامل نہ ہو،بلکہ صرف ہاتھ، پاؤں یا دیگر اعضاء کی تصویر یا جنریشن ہو،تو ایسی صورت شرعاً جائز ہے، کیونکہ وہ تصویر شرعی معنی میں مکمل تصویر نہیں کہلاتی۔البتہ اگر تصویر میں چہرہ شامل ہو، یا ایسی صورت بنائی جائے جو مکمل ذی روح مخلوق پر دلالت کرتی ہو، تو پھر اس کا حکم الگ ہوگا اور وہ عدمِ جواز کے دائرے میں آسکتا ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔