بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
پیشاب کے قطروں کی بیماری کی صورت میں نماز اگر تاخیر کا شکار ہوجائے تو کیا کریں؟

پیشاب کے قطروں کی بیماری کی صورت میں نماز اگر تاخیر کا شکار ہوجائے تو کیا کریں؟

سوال: سلس البول میں اگر وضو کے بعد کوئی کام آجائے اگر نماز لیٹ ہوجائے تو کیا یہ ممکن ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورتِ مسئلہ میں بر صحتِ سوال

         سلسُ البول کا ضابطہ یہ ہے کہ اس میں  مریض کو اتنا وقت ہی نہ ملے جس میں وہ طہارت حاصل کر کے نماز ادا کر سکےلیکن اگر اسے اتنا وقت مل جاتا ہو جس میں وضو اور نماز دونوں ادا ہو سکیں، تو وہ شرعاً صاحبِ سلس نہیں ہوگا۔اگر ایسا شخص ضابطے کے مطابق سلس البول کا مریض قرار پاجائے تو اس مسئلے کو اہل علم نے مستحاضہ کے مسئلے پر قیاس کیا ہے،جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا  کی روایت ہے کہ

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلاَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلاَةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ فَصَلِّي۔(صحیح بخاری:603)

یعنی فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ  کی خدمت میں آئیں اور کہنے لگیں میں ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ ہوتا ہے اور پاک نہیں ہوتی ہوں تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں یہ ایک رگ (کا خون ہوتا)ہے حیض نہیں، جب تمہارا حیض آئے تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہو جائے تو اپنے سے خون دھوؤ اور نماز پڑھو‘‘ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ’’پھر ہر نماز کے لیے وضو کرو یہاں تک کہ یہ وقت (حیض کا وقت) آ جائے‘‘۔

جہاں تک وضو کے بعد صاحبِ سلس  کا  نماز میں تاخیر کرنے کا معاملہ ہے ،تو  اگر تاخیر کسی ضرورت کی وجہ سے ہو، مثلاً:جماعت کے انتظار میں،نفل نماز پڑھنے کے لیے،یا کسی ایسے کام کے لیے جس سے بچنا ممکن نہ ہوتو یہ تاخیر جائز ہے۔اور  اگر بلا ضرورت بھی کچھ تاخیر ہو جائے تو یہ جائز تو ہے لیکن افضل نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔