سوال: کیا ہر نماز کے لیے سفید یا زرد ڈسچارج (رطوبت کے اخراج) پر استنجا اور وضو ضروری ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
عورت کی شرمگاہ سے نکلنے والی رطوبت کی دو اقسام ہیں ۔
- اس میں عورت کے رحم سے شرمگاہ کے ذریعہ سفیدیا پانی کی رنگت کا مادہ خارج ہوتا ہے ۔
یہ ڈسچارج اہلِ علم کے صحیح ترین قول کے مطابق عموماً “ناپاک (نجس) نہیں “ہے ، البتہ یہ ناقضِ وضوء ہے یعنی اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔لہذا اس ڈسچارج پر ہر اُس عبادت کہ جس میں وضو شرط ہے جیسے نماز وغیرہ کے لیے وضو کرنا ضروری ہے ۔ اور اگر وضو سے پہلے استنجاء وغیرہ کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
- اس میں عورت کے رحم سے شرمگاہ کے ذریعہ” پیلا، زرد یا گلابی مائل رنگت” کا مادہ خارج ہوتا ہے ۔
یہ ڈسچارج خون کی ملاوٹ کے احتمال کی وجہ سے اہلِ علم کے احتیاطی قول کے مطابق “ناپاک” ہے ، جسم یا کپڑے پر لگ جائے تو اسے دھونا ضروری ہے۔البتہ اس میں غسل کی ضرورت نہیں ، طہارت کے لیے متعلقہ جگہ و کپڑے کو صاف کرکے وضو کرلینا کافی ہے۔
لیکن اگر آپ کو مسلسل رطوبت آتی ہے اور یہ بیماری کی صورت اختیار کر چکی ہےتو آپ مَعذور شمار ہوں گی، اس کے جیسے ایک مسئلے کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ سیدہ فاطمۃ بنت أبي حُبيش کو استحاضہ (یعنی مسلسل خون) کا مسئلہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ حیض نہیں، بلکہ رگ کا خون ہے، لہٰذا تم ہر نماز کے وقت نیا وضو کر لیا کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 228)
لہذا ایسی خاتون مستحاضہ کے حکم میں ہیں ، اس بنیاد پران کو بس ہر نماز کے وقت استنجاء اور تازہ وُضو کرنا ہوگا،اس ایک وُضو سے “اُس ایک وقت کی” مکمل نمازوں کی ادائیگی کرسکتی ہیں جس میں فرض ،سنتیں ، نوافل وغیرہ سب شامل ہیں۔اگر طبیعت میں زیادہ تکلیف، کمزوری اور نڈھال پن ہوتو صرف اس کیفیت میں کبھی کبھار دو نمازوں (ظہر و عصر یا مغرب و عشاء) کو جمع بھی کرسکتی ہیں ۔ لیکن اسے ہرگز عادت یا معمول نہیں بناسکتیں۔نیز پریشانی سے بچنے اور نجاست کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آپ پیڈ، یا کپڑا اور زیرِ جامہ کا استعمال کریں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی