بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
بیوی کی وفات کے بعد شوہر کا اس کے جہیز پر قبضہ کرنا

بیوی کی وفات کے بعد شوہر کا اس کے جہیز پر قبضہ کرنا

سوال: کچھ ایام قبل میری بہن کا انتقال ہوا ہے، جو جہیز  شادی کے موقع پر ہم نے اس کو دیا تھا ، اب اس پر ہمارے بہنوئی نے قبضہ کیا ہوا ہے، کہتے ہیں کہ اب یہ مال میرا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا درست ہے، کیا اس میں کسی اور کا کوئی حق نہیں ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ شادی کے موقع  پر لڑکی کو جو جہیز دیا جاتا ہے وہ  لڑکی کی ہی ملکیت شمار ہوتا ہے ، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ عِدَّةٍ، قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ, فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ, فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ﴾ (سنن ابی داؤد:2129)

یعنی:جس عورت کا کسی سے نکاح ہو اور عقد نکاح سے پہلے جو کوئی مہر ، عطیہ یا وعدہ کیا گیا ہو تو وہ سب اس عورت کا حق ہے ۔ اور جو عقد کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جس کو دیا جائے ۔

لہذا جہیز اسی لڑکی کی ملکیت ہی شمار ہوگا،اور اس کی وفات کے بعد وہ اس کے دیگر مال کی طرح اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگا، ورثاء میں  بعض یا صرف شوہر کا اس پر قبضہ کرنا اور  یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اب ان کا مال ہے یہ غلط ہے۔ اور اس میں ورثاء  کا حق ہے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔