بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
ٹرین یا ہوائی جہاز میں نماز کا حکم

ٹرین یا ہوائی جہاز میں نماز کا حکم

سوال:کیا دوران سفر ہوائی جہاز یا ٹرین میں فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

          اللہ تعالیٰ نے فرض نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا]

یعنی: یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔(سورۃ النساء:103)

البتہ چونکہ دین اسلام آسان دین ہے تو اس نے مسافروں کو وہ آسانیاں دی ہیں جو عام حالات میں مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں، انہی رخصتوں میں سے ایک رخصت دو  نماز وں کو آپس میں  جمع اور قصر(چار رکعات والی نماز کو رکعات پڑھنا) کرنے کا حکم ہے،جیسا  سیدنا معاذ بن جبلؓ سے روایت  ہے:

[ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ,جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ,أَخَّرَ الظُّهْرَ، حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلُ ذَلِكَ,إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ]

یعنی: رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک میں اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر کو جمع کر لیتے اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے ہی کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کر لیتے ، حتیٰ کہ عصر کے وقت اترتے ( اور انہیں جمع کر کے پڑھتے ) اور مغرب میں بھی ایسے ہی کرتے یعنی اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا تو مغرب اور عشاء کو جمع کر لیتے ۔(سنن ابی داؤد:1208)

نیز قصر نماز کے  تعلق سے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ]

یعنی: جب تم سفر پر جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔(سورۃ النساء:101)

نیزدوران ِ نما زقبلہ رخ ہونا ضروری ہے،  بغیر عذر انصراف قبلہ جائز  نہیں ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام]

یعنی: اپنا منہ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں۔(سورۃ البقرۃ:149)

ان تمام دلائل کوذکر کرنے کے بعد عرض ہے کہ اگر مسافر پر دورانِ سفر ایسی نماز کا وقت کا وقت آجائے جس میں  نماز کو جمع کرنا ممکن ہو تو اس کے لیے جمع کرنا ضروری ہے، مثلاً مسافر کی فلائیٹ ظہر سے پہلے شروع ہوئی ہے اور عصر کا وقت جاری ہے کہ فلائیٹ لینڈ کرجاتی ہے تو وہ لینڈ کرنے کے بعددونوں نمازوں کو جمع کرے گا۔

البتہ اگر کوئی ایسی نماز ہو جس کو جمع  کرنا ممکن نہ ہو مثلاً ایک شخص کی فلائیٹ آدھی رات کی ہو اور سورج کے طلوع کے بعد فلائیٹ  لینڈ کرنی ہو ، اب  نماز کی ادائیگی وقت پر فرض ہے، اور وہ وقت مسافر کا  جہاز میں آرہا ہے ، تو ایسی صورت میں  جہاز میں  ہی نماز ادا کی جائے گی،  اگر   جہاز میں کوئی ایسی جگہ ہو جس میں قبلہ رخ ہوکر ، کھڑے ہوکر نماز مکمل اصل حالت میں پڑھی جاسکتی ہو، تو یہ واجب ہے، کیونکہ نماز میں قیام، رکوع، سجود کا اصل حالت میں کرنا اور بغیر عذر چھوڑنا درست نہیں ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے، قبلہ رخ ہوئے بغیر مسافر نماز پڑھے گا، کیونکہ یہ حالت اضطراری ہے، اور اضطررای حالات میں  قیام، رکوع ،سجود کی اصل حالتوں کی پابندی اور قبلہ رخ ہونے کی پابندی بھی ختم ہوجاتی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

[ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ]

یعنی:مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا ہی چہرہ پاؤ گے۔(سورۃ البقرۃ:115)

نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:

[ صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ]

یعنی:کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرو اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اس کی بھی نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔(صحیح بخاری:1117)

خلاصہ کلام:اگر  کوئی ایسی نماز ہو جس کا ادا کرنا فلائٹ کے علاوہ ممکن نہ ہو اور  نماز تمام شروط کے ساتھ پڑھنا ممکن ہو تو یہ کیا جاسکتا ہے، اگر شروط کی تکمیل ممکن نہ ہو تو جیسے نماز ممکن ہو ، پڑھی جاسکتی ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔