بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
کال یا میسج پر دی گی طلاق کا حکم

کال یا میسج پر دی گی طلاق کا حکم

سوال: ایس ایم ایس کے ذریعے دی گئی طلاق کا حکم کیا ہے؟

الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب

ایس ایم ایس کے ذریعے دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، کیونکہ یہ اس دور میں تحریر ی طلاق کی ایک صورت ہے، جس طرح تحریراً دی  گئی  طلاق ہوجاتی ہے، بلکل یہی معاملہ ایس ایم  ایس کے ذریعے دی گئی طلاق کا ہے۔

واضح رہے کہ  طلاق کا  معاملہ انتہائی حساس  ہے، سنجیدگی اور مذاق دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہے،جیسا کہ  حدیث نبویﷺ ہے:

]أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ.[

یعنی تین باتیں ایسی ہیں اگر کوئی ان کو حقیقت اور سنجیدگی میں کہے ، تو حقیقت ہیں اور ہنسی مزاح میں کہے ، تو بھی حقیقت ہیں :  نکاح ، طلاق اور ( طلاق سے ) رجوع ۔(سنن ابو داؤد:2194)

نوٹ:اسی لیے اس معاملے  کوانتہائی سنجیدہ اور حساس سمجھنا چاہیئے، نہ اسکی اہمیت کو کم سمجھتے ہوئے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس فعل کا ارتکاب کیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔