سوال: لائف انشورنس/بیمہ پالیسی کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسئولہ میں بر صحت سوال
لائف انشورنس جسے بیمہ زندگی کہتے ہیں عام طور پر اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص ۱۰ یا ۱۲۰ ہزار رقم پر انشورنس کراتا ہے یہ رقم اس نے ایک مقررہ مدت کے اندر قسطوں میں ادا کرنی ہوتی ہے۔ جب یہ رقم یا مدت پوری ہوتی ہے تو اسے اصل رقم اور اس پر منافع بھی ملتا ہے۔ اس مدت سے قبل اس کی موت واقع ہو جائے تو اس کے ورثاء کو پوری رقم کمپنی جو بیمہ کرتی ہے ادا کردیتی ہے۔ یہ بھی دیگر انشورنس کی طرح کام جائز نہیں ہے، جس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں:
۱۔ سود: اس میں سود دو اعتبارات سے شامل ہے، کمپنی پریمیم کی رقم کو سودی سرمایہ کاری میں لگاتی ہے، اور “Loan” یا “Automatic Premium Loan” پر منافع یا “return” لیتی ہے۔ دوسرا یہ کہ صارف نے پریمیم کی جتنی رقم جمع کرائی ہو اور اس کو کلیم حاصل کرنا پڑ جائے اور کلیم کی رقم جمع کرائی گئی رقم سے زیادہ ہو ، تو جمع کرائی گئی رقم کمپنی کے ذمے قرض تھی اور صارف کا اس سے زیادہ وصول کرنا سود ہے، جو کہ حرام ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے کہ:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِين ï فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ البقرۃ: 278& 279)
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو ۔
۲۔ جوا : اس اعتبار سے کہ اگر پالیسی ہولڈر مدت سے پہلے فوت ہو جائے تو تھوڑی رقم دے کر بہت بڑی رقم حاصل کرتا ہے، اور اگر مدت تک زندہ رہے تو اکثر پریمیم مکمل یا جزوی طور پر ضبط ہو جاتا ہے،یہی جوئے کی تعریف ہے کہ دو فریقین کسی معاہدے پر مقررہ وقت کے ساتھ ایک رقم لگائیں اور اور وقت آنے پر کسی ایک کا نقصان اور دوسرے کا فائدہ ہوجائے، اس سے شریعت مطہرہ نے منع فرمایا ہے، چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
یعنی: اے ایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا یہ آستانے اور پانسےسب گندے شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاسکو۔(سورۃ المائدۃ:90)
۳۔ غرر(uncertinity) اس اعتبار سے نہ یہ معلوم کہ کمپنی کب رقم دے گی، کتنی دے گی، یا پالیسی ہولڈر کو کچھ واپس ملے گا یا نہیں۔ جبکہ شریعت نے غرر (uncertinity) والے معاملات سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ ہے:
﴿نَهَى رَسُولُ اللهِﷺعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ﴾ (صحیح مسلم:3808)
یعنی:نبیﷺ نے دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔
خلاصہ کلام: لائف انشورنس بیمہ پالیسی سود، جوا، غرر ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔آمین
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی