سوال: کیا خون دینے کا معاوضہ لیا جاسکتا ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ خون کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے،کیونکہ خون کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، ار خرید وفروخت کے جائز ہونے کے لیے چیز کا جائز ہونا ضروری ہے، کیونکہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
[إنَّ اللهَ تعالى إذا حرَّمَ شَيئًا حرَّمَ ثَمَنَه](مسند احمد، سنن دارقطنی،صحیح ابن حبان)
ترجمہ: جب اللہ کسی چیز کو حرام قرار دیتا ہے ، تو اس کی کمائی کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔
نیز خون کی خرید وفروخت کی خاص دلیل بھی موجود ہے، جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے:
[ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ](صحیح بخاری:2238)
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے خون کی قیمت کمائی سے منع فرمایا تھا۔
ان دلائل سے بات واضح ہے کہ خون کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے، اس کو صرف ہدیہ ہی کیا جاسکتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی