قسطوں(installment) پر کاروبارکرنا کن شروط کے ساتھ جائز ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
قسطوں(installment) پر کاروبارکرنا اصلاًجائز ہے، بلکہ اسکی چند مثالیں عہد نبویﷺ سے بھی ملتی ہیں،ایک مثال ذیل میں ہے:
حدیث بریرہ (رضی اللہ عنہا) ہے کہ: } حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نےفرمایا: بریرہ (رضی اللہ عنہا) میرے پاس آئی اور کہنے لگی: عائشہ(رضی اللہ عنہا)! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت (قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ) کیا ہے، ہر سال میں ایک اوقیہ (40 درہم ادا کرنا) ہے{ (صحیح مسلم: 3778 ، ترقیم دارالسلام)
قسطوں پر خرید و فروخت کا معاملہ کرنا حلال ہے ، بلکہ اس میں خریدنے والے اور بیچنے واے دونوں کے لیے اسطرح فائدہ ہے کہ بیچنے والا اپنی فروخت میں اضافہ کرتا ہے، اور قسطوں کی صورت میں، وہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر کے بدلے زیادہ قیمت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ خریدار بھی سامان حاصل کرتا ہے خواہ اس کے پاس اس کی قیمت نہ ہو، اور اس کی قیمت بعد میں قسطوں میں ادا کرتا ہے۔ لیکن اس معاملے کو کرنے کے لیے چند شروط کا ہونا ضروری ہے، چند شروط کا تعلق عمومی خریدوفروخت کے معاملے کے ساتھ ہے ، چند کا تعلق اس معاملے کے ساتھ خاص ہے۔جن شرائط کا تعلق خاص قسطوں پر کاروبار کے تعلق سے ہے وہ یہ ہیں:
1۔ بیچنے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ خریدار اگر قسط کی ادائیگی میں تاخیر کرے تو اس پر کوئی مالی جرمانہ لگائے، کیونکہ یہ قرض کی صورت ہے اور اس پر جرمانہ لینا سود شمار ہوگا۔
2۔ خریدار کے لیے بغیر کسی وجہ کے قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ قرض ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
“مطل الغني ظلم” (ترمذی: 1309)
کہ مالدار (قرضدار ) کا (ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ بلکہ شریعت نے اس حوالہ سے قرض خواہ کی رہنمائی بھی کی ہے کہ وہ اس صورت میں کیا کرے ۔نبیﷺ کا فرمان ہے:
“لي الواجد يحل عرضه وعقوبته” (ابو داؤد: 3628)
کہ مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت اور اس پرسزا کو حلال کردیتا ہے۔
عبد اللہ ابن المبار ک (رحمہ اللہ )اس حدیث کی توضیح میں فرماتےہیں : ’’عزت حلال ہونے سے مراد ہے کہ اس پر سختی کی جائے گی اور اس کی سزا سے مراد ہے کہ اسے قید کردیا جائے گا‘‘۔
3۔ بیچنے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ معاہدہ ہونے کے بعد بھی سامان کی ملکیت اپنے پاس رکھے، بلکہ ملکیت خریدار کی طرف منتقل کرنا واجب ہے، لیکن بطور گروی وہ چیز اپنے پاس رکھ سکتا ہے، اگر قسطوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول کا خدشہ ہو۔
ھذا ماعندی واللہ تعالی اعلم بالصواب
مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی