بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
آفس میں بغیر کام کے اجرت لینا

آفس میں بغیر کام کے اجرت لینا

سوال: دفتر میں کام نہ ہونے کی صورت میں تنخواہ کا حکم کیا ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

          واضح رہے کہ  کسی بھی جگہ ملازمت کرنا والے کو اجیر کہا جاتا ہے، اور اس کو تنخواہ ملتی ہے وہ اس کے وقت کی  اجرت ہوتی ہے، لہٰذا جتنا وقت مقرر ہے اتنا وقت اس کا  کام کی جگہ پر گزارنا واجب ہے۔ اگر  ملازم اس جگہ اپنا وقت حسب وعدہ دیتا ہے اور کمپنی  کی طرف سے اس کو کوئی ذمے داری یا  کام نہیں دیا جاتا تو ایسی صورت میں بھی اس کے لیے تنخواہ کا مطالبہ کرنا درست ہے، کیونکہ اس نے اپنا معاہدہ مکمل کیا ہے، اور مسلمانوں کا آپس کے معاہدوں کو مکمل کرنا واجب ہے، جیسا  کہ نبیﷺ کافرمان ہے:

[ الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ](سنن ابی داؤد:3594)

یعنی: مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں ۔

لہذا ملازم کا حسب وعدہ وقت کام کی جگہ پر گزارنا اور اس صورت میں تنخواہ کا مطالبہ کرنا  درست ہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔