سوال: کیا ایسے حکمران کی اطاعت واجب ہے جو قرآن و سنت کے مطابق حکومت نہیں چلاتا؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ قرآن وسنت کےواضح نصوص و دلائل کی روشنی میں مسلمان حاکم جب تک اللہ تعالیٰ کی معصیت کا حکم نہ دے، جب تک اس کی اطاعت واجب ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿لا طاعة لمخلوق في معصیة الله﴾(سنن ترمذی:1707)
یعنی: اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا۔
البتہ اگر کوئی حاکم کتاب و سنت کے مطابق حکومت نہ چلائے لیکن واضح کفر کا ارتکاب نہ کررہا ہو، تو ایسی صورت میں بھی اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے:
﴿ستکون أمراء فتعرفون وتنکرون فمن عرف برئ ومن أنکر سلم ولکن رضي و تابع قالوا: أفلا نقاتلهم قال :لا ما صلّوا ﴾(صحیح مسلم:4801)
یعنی: ”تم پر ایسے امیر لگائے جائیں گے جن میں تم اچھائیاں بھی دیکھو گے اور برائیاں بھی، جس نے (برے کاموں کو) ناپسند کیا، وہ بری ہو گیا، جس نے انکار کیا وہ بچ گیا، مگر جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا (وہ بری ہوا نہ بچ سکا۔)“ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔