سوال: کیا کسی پیر یا بزرگ کو “ہر جگہ حاضر و ناظر” ماننا شرک ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ”ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا” ایسی صفت ہے جو مخلوق کے لیے ثابت کرنا درست نہیں، بلکہ یہ جملہ اپنی اصل صورت میں اللہ تعالیٰ کی شان کے بھی مطابق نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:
﴿ الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى ﴾(سورۃ طہ:05)
یعنی: وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔
البتہ اللہ تعالیٰ سمع و بصر کے اعتبار سے ہر چیز کو دیکھنے اور سننے والا ہے،یعنی:وہ “ناظر” ہے، لیکن “ہر جگہ بذاتِ خود حاضر” ہونا اس کے بارے میں بھی ثابت نہیں، کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی بلندی اور علوِّ شان واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔
لہٰذا کسی مخلوق، خواہ وہ پیر ہو یا کوئی بزرگ، کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ “ہر جگہ حاضر و ناظر” ہے، صریحاً باطل اور شرک کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس میں مخلوق کو ایسی صفت دینا ہے جو نہ اس کے لیے ممکن ہے اور نہ شرعاً ثابت۔
خلاصہ:کسی پیر یا بزرگ کو “ہر جگہ حاضر و ناظر” ماننا شرعاً ناجائز اور شرکیہ عقیدہ ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو اسی کے ساتھ خاص رکھنا ضروری ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الإفتاء،المدينہ اسلامک ریسرچ سینٹر