سوال: کیا “وسیلہ” کے نام پر کسی فوت شدہ بزرگ کو پکارنا توحید کے خلاف ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال
واضح رہے کہ توحید کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ دعا، فریاد اور استعانت صرف اللہ تعالیٰ سے کی جائے۔ کسی بھی مخلوق کو ما فوق الاسباب (یعنی جس چیز کو شرعیت یا عقل نے سبب نہ مانا ہو)طریقے سے پکارنا، اسے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا، یا یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ دور سے سن کر مدد کرسکتا ہے، شرعاً جائز نہیں بلکہ یہ توحید کے خلاف اور شرک کے زمرے میں داخل ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا آخَرَ ﴾ (القصص: 88)
یعنی: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا۔
مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ ﴾(فاطر:22)
یعنی: اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔
لہٰذا کسی فوت شدہ بزرگ کو مثلاً: “یا علی مدد”، “یا رسول اللہ مدد” یا “یا غوث اعظم” کہنا،یا کر اس نیت سے پکارنا کہ وہ سن کر مدد کریں گے، یہ ما فوق الاسباب استعانت ہے، جو شرک ہے؛ کیونکہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔
جہاں تک “وسیلہ” کا تعلق ہے تو اس کی مشروع صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت کسی نیک عمل، اللہ کے اسماء و صفات، یا کسی زندہ نیک شخص کی دعا کو وسیلہ بنایا جائے۔ اس کی دلیل حضرت عمرؓ کا عمل ہے کہ قحط کے موقع پر انہوں نے حضرت عباسؓ سے دعا کروائی اور فرمایا:“ہم نبی ﷺ کے ذریعے (یعنی ان کی دعا سے) وسیلہ کرتے تھے، اب ان کے چچا کے ذریعے وسیلہ کرتے ہیں”(صحیح بخاری:1010)
یعنی یہاں وسیلہ “دعا” کا تھا، نہ کہ فوت شدہ کو پکارنے کا۔
خلاصہ:فوت شدہ بزرگوں کو ما فوق الاسباب طریقے سے پکارنا اور ان سے مدد طلب کرنا شرعاً ناجائز اور شرک ہے، جبکہ مشروع وسیلہ صرف زندہ شخص کی دعا یا نیک اعمال کے ذریعے اللہ سے مانگنا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس الإفتاء،المدينہ اسلامک ریسرچ سینٹر