بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور پر Absolute Trust کرنا

اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور پر Absolute Trust کرنا

سوال: کیا اللہ کے علاوہ کسی پر کامل بھروسہ (Absolute Trust) کرنا شرک ہے؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

واضح رہے کہ “توکل” (کامل بھروسہ) عبادت ہے، اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ اس لیے ایسا کامل اعتماد کہ دل اسباب سے ہٹ کر کسی مخلوق ہی پر ٹِک جائے، اور اسے نفع و ضرر کا خود مختار سمجھا جائے، یہ توحید کے خلاف اور شرک ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:

﴿ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾(سورۃ المائدہ:23)

یعنی: “اگر تم مومن ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔”

البتہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
﴿ اعقلها وتوكل﴾ (سنن ترمذی:2517)

ترجمہ: “اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ پر توکل کرو۔”

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت نے اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اصل توکل اللہ ہی پر رکھا جائے گا۔لہٰذا:

  • اگر کوئی شخص مخلوق پر ایسا کامل بھروسہ کرے کہ اسے مستقل نفع و نقصان کا مالک سمجھے، اور اس کا دل اللہ سے ہٹ کر اسی پر جم جائے، تو یہ شرک کے زمرے میں آتا ہے۔
  • البتہ مخلوق کو محض “سبب” سمجھ کر اس پر اعتماد کرنا جائز ہے، جیسے: ڈاکٹر سے علاج کروانا، وکیل کی خدمات لینا، یا کسی امانت دار کے سپرد مال کرنا۔ یہ “اعتماد” ہے، “توکل” نہیں۔

خلاصہ:کامل توکل صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے، جبکہ مخلوق پر اعتماد صرف اسباب کے درجے میں جائز ہے، بشرطیکہ دل کا حقیقی بھروسہ اللہ ہی پر باقی رہے۔

ھذا  ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء ، المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔