سوال : اگر سب کچھ پہلے سے لکھا ہوا ہے تو پھر محنت اور دعا کا کیا فائدہ ہے؟
الجواب بعون الوھاب والیہ المرجع والمآب
صورتِ مسئولہ میں برصحتِ سوال
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کا پہلے سے علم ہونا اور لکھ دینا، انسان کو مجبور نہیں بناتا۔ اور اسی طرح انسان کو اللہ کے حوالے سے بے بھروسہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اس کے ساتھ کچھ غلط کیا جائے گا ، بلکہ حقیقت یہ ہے کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ انسان وہی کاٹے گا جو بوئے گا۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا [الدھر: 03]
“بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اختیار بندے کے پاس ہے، اسی اختیار کی بنیاد پر وہ مکلف اور جواب دہ ہے۔ جہاں تک بات محنت اور عمل ہے تو شریعت نے محنت اور اسباب اختیار کرنے کا واضح حکم دیا ہے۔نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ [صحیح بخاری: 4949]
عمل کرو، ہر ایک کو اسی چیز کے لیے آسانی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔اگر تقدیر کا مطلب یہ ہوتا کہ عمل کی کوئی حیثیت نہیں، تو نبی ﷺ عمل کا حکم نہ دیتے۔
پس معلوم ہوا کہ تقدیر، عمل کے ترک کا بہانہ نہیں بلکہ عمل کا محرک ہے۔
اب یہ کہنا کہ “سب کچھ لکھا ہے، اس لیے محنت یا دعا کی ضرورت نہیں” تو درحقیقت شریعی نصوص اور انبیاء علیہم السلام کے طرزِ عمل کے خلاف ہےاور انسانی ذمہ داری کو ساقط کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اوربالفرض مذکورہ منطق کو درست مان لیا جائے تو گناہ پر مؤاخذہ اور اطاعت پر اجر بے فائدہ ہوگا۔حالانکہ قرآن وسنت اس کے بالکل برعکس ہیں۔
حاصلِ کلام: یہ ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور نہیں مکلف بنایا ہے اور کوئی عمل و حرکت بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باہر نہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب
مجلس الإفتاء،المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر