بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
[wp_hijri_date ]
حرام کام کی تشہیر کرنا

حرام کام کی تشہیر کرنا

سوال: مفتی صاحب! میرا تعلق ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے سے ہے، بعض اوقات مجھے ایسے کلائنٹس ملتے ہیں جو غیر شرعی کاروبار کرتے ہیں (مثلاً: فلموں کی پرموشن، سود پر مبنی لون ایپس، یا جوئے کی ویب سائٹس)، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے ان حرام کاموں کی تشہیر (Marketing) کر سکتا ہوں؟ کیا محض تشہیر کرنے کی اجرت (فیس) لینا جائز ہے جبکہ میں خود وہ حرام کام نہیں کر رہا، صرف دوسروں کو بتا رہا ہوں؟

الجواب بعون  الوھاب والیہ المرجع والمآب

صورت مسؤلہ میں بر صحت سوال

          واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیاء حرام فرمائی ہیں ، وہ چیزیں کسی کو فراہم کرنایا فراہم کرنے میں کسی قسم کا تعاون کرنا بھی حرام ہے،نیز اس پر کسی قسم کی اجرت  وصول کرنا بھی حرام ہے، کیونکہ یہ گناہ اور معصیت کے کام پر تعاون ہے، جس سے شریعت اسلامیہ نے منع کیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾(سورۃ المائدۃ:02)

یعنی:  گناہ ظلم زیادتی میں مدد نہ کرو۔

نیز نبیﷺ کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ ﴾(سنن ابی داؤد:3488)

یعنی: اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے۔

لہذا کسی بھی حرام کی تشہیرکرنا ، جیسا کہ سوال میں  پوچھا گیا ہے  وہ  حرام ہے، لہذا اس سے بچنا واجب ہے۔

ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

رب کریم ہمیں جمیع معاملات میں قرآن و سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

مجلس الافتاء،المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں چھ سے سات دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔